27 ستمبر 2026 - 16:28
یمن میں سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی کی مرکزی تقریب

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس میں یمنی حکام اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر مرکزی تقریب آج اتوار کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں منعقد ہوئی، جس میں حکام اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی۔

یمن کے قائم مقام وزیراعظم محمد مفتاح نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی صورتحال میں سید حسن نصراللہ کے کردار کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور ایک مستقل توازن قائم کیا۔ انہوں نے سید حسن نصراللہ کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین رہنماؤں اور شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔

مفتاح نے کہا: سید حسن نصراللہ اس سوچ کے ساتھ کہ ’’ہم شکست نہیں کھاتے؛ جب ہم کامیاب ہوتے ہیں تو کامیاب ہوتے ہیں اور جب شہید ہوتے ہیں تب بھی کامیاب ہوتے ہیں‘‘، بڑی کامیابیاں حاصل کرنے اور ایک مستحکم توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم عالمی صیہونی نظام سے کہتے ہیں کہ سید حسن نصراللہ نے مختلف میدانوں اور جنگوں میں آپ کو شکست دی اور ان کی شہادت کا دن بھی اس کی آخری مثال تھا۔

یمن کے قائم مقام وزیراعظم نے مزید کہا: دشمنوں کا خیال تھا کہ سید حسن نصراللہ کو شہید کرنے کا مطلب ان کے منصوبے اور مقصد کو بھی ختم کرنا ہوگا، لیکن وہ اس مقصد میں ناکام رہے اور اب یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اب بھی حالات پر قابو رکھتے ہیں۔

مفتاح نے زور دیا: سید حسن نصراللہ کو 40 سال کی منصوبہ بندی، نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں کے بعد شہید کرنا دشمن کی فتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نصراللہ پہلے شخص تھے جنہوں نے توازن تبدیل کیا

یمن کی علما کونسل کے رکن فؤاد ناجی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصراللہ پہلے شخص تھے جنہوں نے توازن تبدیل کیا اور اسرائیل کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے خطے کی صورتحال میں سید حسن نصراللہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ’’اپنے دور کے مرد‘‘، ’’محوروں کا محور‘‘ اور ’’خطے کی سلامتی کے ضامن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے نئے مشرق وسطیٰ کے منصوبے اور صدی کی ڈیل کے مقابلے میں ڈٹ کر ان منصوبوں کا سامنا کیا۔

ناجی نے مزید کہا: سید حسن نصراللہ تقریباً نصف صدی تک صیہونیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب رہے اور آج بھی ان کی فکر، جماعت، فورسز اور پیروکار ان کے لیے ڈراؤنا خواب ہیں۔

انہوں نے کہا: سید حسن نصراللہ ایک اسلامی علامت تھے جنہیں جغرافیے کی حدود میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ایک عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ دین زندگی کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

یمن کی علما کونسل کے رکن نے یمن کی تحریک انصاراللہ کے رہنما عبدالملک بدرالدین الحوثی کی جانب سے سید حسن نصراللہ کے لیے استعمال کیے گئے ایک خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس شہید کے لیے سب سے بڑی توصیف ’’اسلام اور انسانیت کے شہید‘‘ کا عنوان ہے اور یہ تعبیر ان کے مقام کے مطابق ہے۔

ناجی نے خطے کی صورتحال میں سید حسن نصراللہ کے کردار پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا: وہ محوروں کا محور اور پورے خطے کی سلامتی کے ضامن تھے؛ وہ اس وقت بھی ڈٹ کر کھڑے رہے جب انہوں نے ’’صدی کے جرم‘‘ کا مقابلہ کیا اور آج بھی صیہونیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: سید حسن نصراللہ اور ان کے ساتھی سید ہاشم صفی الدین کا خون ایک ایسا سیلاب بنے گا جو دنیا کا نقشہ بدل دے گا اور مومنین کے حق میں توازن کو تبدیل کر دے گا۔

یمن کی علما کونسل کے رکن نے آخر میں زور دیا کہ یمن سید حسن نصراللہ کے اس ملک کے بارے میں مؤقف کو فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا: جب دوسروں نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا تھا، وہ یمن کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور یمن کی نسلیں بھی یمن، فلسطین اور بوسنیا و ہرزیگوینا کے بارے میں ان کے مؤقف کو فراموش نہیں کریں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha